ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات گزشتہ چند سالوں میں ایک غالب حکمت عملی کے نتیجہ  میں ترقی کر چکے ہیں۔ دفاعی اتحاد سے لے کر انقلابی ٹیکنالوجی اور زرعی انقلاب تک دونوں ممالک نے مضبوط سفارتی، اقتصادی اور فوجی روابط استوار کیے ہیں۔ 2026 میں، ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں تیزی آتی جارہی ہے، جس نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے اسٹریٹجک توازن میں اہم کردار ادا کیا اور اب خاص طور پر ایران اور افغانستان میں۔ ہندوستان نے 1950 میں اسرائیل کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1992 میں اور اس کے بعد قائم ہوئے۔ تب سے دونوں کے درمیان تعاون بتدریج بڑھ رہا ہے۔

 

2017 میں ایک اہم سفارتی پیش رفت ہوئی جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا قابل ذکر دورہ کیا اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بن گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اب 2026 میں ایک بار پھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا جس کا اسرائیل نے غیر معمولی گرمجوشی سے استقبال کیا جو رسمی استقبال سے لے کر اعلیٰ سطحی مذاکرات تک پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

 

یہ شاندار استقبال اور تقریبات اعتماد اور بڑھتی ہوئی شراکت کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ تعلق سرکاری طور پر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں ہے لیکن علاقائی جغرافیائی سیاست میں یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط دفاعی معاہدے ہیں اور اسرائیل بھارت کو دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔

 

ان دوروں نے تعلقات کو محض سفارتی مصروفیات کے بجائے اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل دیا۔ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے سب سے مضبوط ستون دفاع اور سائبر سیکیورٹی ٹیکنالوجی ہیں۔ ہندوستان اسرائیل سے درج ذیل جدید ترین آلات لیتا ہے:

• زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم (براق-8)۔

• ہیرون ڈرون اور UAV ٹیکنالوجی

• جدید ریڈار سسٹم الیکٹرونک جنگی سازوسامان

 

دونوں قومیں اب مشترکہ ترقیاتی پروگراموں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی شامل ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے مقاصد ایک ہیں جو مسلمانوں کی نسل کشی کرتے ہیں۔ ہندوستان کی بڑی ٹیکنالوجی افرادی قوت کے ساتھ مل کر اسرائیلی اختراع دونوں ممالک کو مسلمانوں کی نسل کشی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مضبوط تعاون  پیدا کرتی ہے۔

 

ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تجارت کی مالیت تقریباً 20 بلین ڈالر سالانہ ہے جو بڑھ رہی ہے۔ ہندوستان کے مشرق وسطیٰ میں مستحکم روابط ہیں جو اسرائیل کو ان کے دفاع اور سلامتی کے خدشات، فلسطین کے لیے دو ریاستی حل، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط روابط رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔