اسلام آباد: حکومت نے ملک کے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے Retailer Scheme App متعارف کرا دی ہے۔ نئی موبائل ایپ کے ذریعے ایسے دکاندار جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں، اپنے موبائل فون سے رجسٹریشن کرانے کے ساتھ ٹیکس ریٹرن بھی جمع کرا سکیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اسلام آباد میں ایپ کا افتتاح کیا۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ٹیکس نظام کو پیچیدہ بنانے کے بجائے اسے آسان اور قابلِ عمل بنانا ہے۔ (The Nation)
چھوٹے دکانداروں کے لیے آسان ٹیکس نظام
حکومت نے جون 2026 میں چھوٹے ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت اہل دکانداروں کو اپنی سالانہ ریٹیل سیلز کے حساب سے 1 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ نظام ایسے کاروباروں کے لیے ہے جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے تک ہے۔ (Business Recorder)
نئی ایپ اسی اسکیم کو عملی طور پر استعمال کرنے کا آسان ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ دکاندار کو روایتی طریقہ کار میں الجھنے کے بجائے موبائل فون سے اپنی معلومات درج کرکے ٹیکس فائلنگ کا عمل مکمل کرنے کی سہولت ملے گی۔
حکام کے مطابق اسکیم میں شامل ہونے کے لیے ایک سادہ ایک صفحے کا ڈیکلریشن فارم جمع کرانا ہوگا۔ اس کے علاوہ پہلے سے یوٹیلیٹی بلز یا دیگر ذرائع سے کٹنے والے قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کو ٹیکس واجبات میں ایڈجسٹ کرنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ (Business Recorder)
کم از کم سالانہ ٹیکس 25 ہزار روپے
حکومت نے اسکیم میں شامل چھوٹے ریٹیلرز کے لیے کم از کم سالانہ ٹیکس 25 ہزار روپے مقرر کیا ہے۔ یعنی اہل دکاندار کو اسکیم کے تحت کم از کم اتنی رقم سالانہ ٹیکس کی مد میں ادا کرنا ہوگی۔ (Business Recorder)
یہ اقدام خاص طور پر ان چھوٹے کاروباری افراد کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے جو موجودہ ٹیکس نظام کو مشکل، مہنگا یا وقت طلب سمجھتے ہوئے رسمی ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں۔
POS مشین کی پابندی سے بھی چھوٹ
ریٹیلر اسکیم میں شامل دکانداروں کے لیے ایک اہم سہولت Point of Sale (POS) سسٹم سے استثنیٰ ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے مطابق اسکیم میں شامل چھوٹے ریٹیلرز کو POS سسٹم رکھنے کی پابندی نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ معمول کے ٹیکس آڈٹ اور بعض ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داریوں سے بھی انہیں ریلیف دیا جائے گا۔ (Business Recorder)
حکومت کا خیال ہے کہ اس طرح چھوٹے دکانداروں کے لیے ٹیکس نظام میں داخل ہونا نسبتاً آسان ہوگا اور انہیں بڑے کاروباری اداروں جیسے پیچیدہ کمپلائنس طریقہ کار کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اسکیم لازمی نہیں، دکاندار کے پاس انتخاب موجود ہوگا
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ چھوٹے ریٹیلرز کے لیے یہ اسکیم اختیاری رکھی گئی ہے۔
یعنی جو دکاندار پہلے سے معمول کے ٹیکس نظام کے تحت کام کر رہے ہیں یا اسی نظام میں رہنا چاہتے ہیں، وہ روایتی ٹیکس نظام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان کے لیے نئی اسکیم اختیار کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ (The Nation)
حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد چھوٹے تاجروں کو زبردستی کسی نئے نظام میں دھکیلنے کے بجائے ایک آسان متبادل فراہم کرنا ہے۔
ستمبر میں مقامی زبانوں میں بھی ایپ دستیاب ہوگی
ریٹیلر اسکیم ایپ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت اسے صرف انگریزی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔
بلال اظہر کیانی کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے تک ایپ کو مقامی زبانوں میں بھی دستیاب کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ایسے دکانداروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جنہیں انگریزی زبان میں ٹیکس فارم یا ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ (Business Recorder)
حکومت کا ہدف لاکھوں تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا
حکومت اس منصوبے کو صرف ایک موبائل ایپ نہیں بلکہ ٹیکس بیس بڑھانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ کے مطابق اگر اسکیم مؤثر انداز میں کام کرتی ہے تو لاکھوں تاجروں کو رسمی ٹیکس نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی امید ہے کہ ٹیکس نیٹ وسیع ہونے سے ملک کے پہلے سے رجسٹرڈ اور ٹیکس ادا کرنے والے طبقات، خصوصاً تنخواہ دار طبقے، پر نسبتاً کم دباؤ پڑے گا۔ (Business Recorder)
محمد اورنگزیب نے بھی اس موقع پر زور دیا کہ اگر معیشت کا ایک بڑا حصہ ٹیکس نظام سے باہر رہے تو ٹیکس نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیح ٹیکس نظام کو زیادہ آسان بنانا ہے تاکہ مختلف شعبے قومی معیشت کے رسمی دائرے میں شامل ہوں۔ (Business Recorder)
تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس ریٹرن آسان بنانے کا عندیہ
ریٹیلر اسکیم ایپ کی لانچنگ کے موقع پر وزیر خزانہ نے صرف تاجروں کی بات نہیں کی بلکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس ریٹرن کو آسان بنانے کا عندیہ دیا۔
محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس ریٹرن اتنا پیچیدہ نہ ہو کہ ایک تعلیم یافتہ شخص بھی اسے ماہر کی مدد کے بغیر مکمل نہ کر سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں تنخواہ دار طبقے کے ریٹرن فارم کو مختصر اور آسان بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ (Geo News)
کیا یہ اسکیم چھوٹے تاجروں کے لیے واقعی فائدہ مند ہوگی؟
نئی اسکیم کا اصل امتحان اس کے اعلان میں نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ میں ہوگا۔ اگر ایپ آسانی سے کام کرتی ہے، رجسٹریشن کا عمل واقعی مختصر رہتا ہے اور ایف بی آر کی طرف سے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں تو یہ اقدام پاکستان کے غیر رسمی ریٹیل سیکٹر کو دستاویزی معیشت میں لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
دوسری طرف چھوٹے تاجروں کی جانب سے اعتماد پیدا کرنا بھی ضروری ہوگا۔ صرف ایک موبائل ایپ لانچ کرنے سے ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوگا؛ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ دکانداروں کو اسکیم کے قواعد، ٹیکس حساب اور آئندہ کی ذمہ داریوں کے بارے میں واضح معلومات بھی ملیں۔
مجموعی طور پر Retailer Scheme App حکومت کی اس کوشش کی نمائندگی کرتی ہے جس کے ذریعے ٹیکس نظام کو بڑے کاروباروں سے آگے بڑھا کر ملک کے لاکھوں چھوٹے دکانداروں تک پہنچایا جائے۔ اگر حکومت سہولت، شفافیت اور اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ ایپ پاکستان کے ٹیکس نظام کو مزید وسیع اور ڈیجیٹل بنانے میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔ (Business Recorder)
ماخذ: خبر کی تیاری کے لیے APP، Business Recorder، Mettis Global، The Nation اور دیگر دستیاب رپورٹس کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ بنیادی معلومات اور اعدادوشمار کو باہم ملا کر اوپر خبر کو نئے اور منفرد انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ (app.com.pk)
Sources: Information for this report was compiled from reports published by Associated Press of Pakistan (APP), Business Recorder, Mettis Global, The Nation and The Frontier Voice.